ڈی جی ایف آئی اے کی رخصت کے حوالے سے چہ مگوئیاں

0
4

ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی بشیر میمن کی پندرہ یوم کی رخصت کے حوالے سے چہ میگوئیاں عروج پر ہیں۔ کچھ افسران کا خیال ہے کہ رواں برس ایف آئی اے کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی، جبکہ افسران کا ایک حلقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اعلیٰ ایوان کے حلقے جج وڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کے حوالے سے سخت تحفظات کا اظہار کررہے ہیں کیونکہ اب 30 ستمبر کو بشیر میمن نے اس حوالے سے عدالت میں پیش ہونا تھا اور وہ رخصت پر چلے گئے۔

اس حوالے سے ڈی جی سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر اُنہوں نے ہر دفعہ گریز کیا۔

اس خبر کے حوالے سے ایف آئی اے کے متعدد اعلیٰ افسران سے بات ہوئی مگر سب نے نام نہ ظاہر کرنے پر انکشاف کیا کہ ایک حلقے کے مطابق رواں برس پورے ملک میں ایف آئی اے سرکلز میں کوئی خاص کارروائیاں نہیں ہوئیں۔

سب سے برا حال کراچی سرکلز کا رہا، جن سرکلز میں ایک سال میں 60-70 ایف آئی ار درج ہوتی تھیں، وہاں کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں: اینٹی کرپشن سرکل 6، کمرشل بینک سرکل 10، کارپوریٹ کرائم سرکل صرف 2، سائبر کرائم سرکل 19، اسٹیٹ بینک سرکل 10اور اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل 8۔

اسلام آباد / پنڈی زون کے کارپوریٹ کرائم سرکل میں 2، کمرشل بینک سرکل میں 7، اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل میں 5 اور اینٹی کرپشن سرکل میں 12۔

کوئٹہ کے اعداد و شمار قدرے بہتر رہے، جس میں اے سی سی میں 47، اے ایچ ٹی سی میں 28 اور کمرشل بینک سرکل میں 20۔

لاہور اے سی سی 34، سی سی سی 15، سی بی سی 96۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے کی انسانی اسمگلرز کے حوالے سے ریڈبک میں ہر برس 20-30 افراد کا اضافہ ہوتا تھا کیونکہ ایف آئی آر درج ہوتی تھیں مگر اس برس ریڈ بک میں صرف 7 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف ادارے کے اعلیٰ افسران کے ایک حلقے کی یہ رائے ہے کہ جج وڈیو اسکینڈل کی ناقص تفتیش کی سربراہی اور مبینہ ملزمان کے بری ہونے سے حکومتی ایوان میں سخت اضطراب اور تشویش پائی جاتی ہے۔

فیصلے کے بعد ادارے میں تعینات گریڈ 19 کے افسران، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل علی شیر جکھرانی کی خدمات اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کردی گئیں۔

اس کے بعد ادارے کے تین افسران ڈائریکٹر افضل بٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فاروق لطیف اور پراسکیوٹر کلیم اللّٰہ تارڑ کو اسی حوالے سے او ایس ڈی بنا دیا گیا، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل محمد نعیم اور ڈی جی بشیر میمن کو مقدمے کی سنوائی کرنے والے جج طاہر محمود خان نے عدالتی احکامات نہ ماننے اور توہین عدالت کے حوالے سے دفعہ 174 پاکستان پینل کوڈ کے تحت کارروائی کے شوکاز جاری کیے مگر وہ دونوں حاضر نہیں ہوئے۔

دفعہ 174 کے تحت عدالت مذکورہ فرد کو سزا دے سکتی ہے جو کہ ایک ماہ قید اور ڈیڑھ ہزار روپے جرمانہ یہ دونوں شامل ہیں۔

اب 30 ستمبر کو ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عدالت میں ہر صورت حاضر ہونا تھا مگر اب وہ رخصت پر چلے گئے ہیں۔

اس حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر اُنہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

Read more: ڈی جی ایف آئی اے کی رخصت کے حوالے سے چہ مگوئیاں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here